









Emphasize your look
From average to Ideal
کہانی سے نکلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
کہانی سے نکلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے وفا کی دھوپ ڈھلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے یہ دہشت کا ہے دن ایساذرا دل کو سنبھالو تم یہاں دن کے بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے نہ جانے کب کوئی آنسو مرا دامن بھگو دے گا نگاہوں کو چھلکنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے کسی کی خوش کلامی پر نہ مر مٹنا مرے یارو یہاں لہجے بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے حذیفہ کب تلک خود کو نکھارو گے سنوارو گے سدھر کر پھر بگڑنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے حذیفہ اشرف عاصمی
Dunia budal sakata hoom
ہاں میں یہ دنیا بدل سکتا ہوں تحریر:حذیفہ اشرف عاصمی میرا انکا سب کا ہے کہنا کہ میں یہ دنیا بدل سکتا ہوں … امن کا پرچم لے کر اٹھو ہر انساں سے پیار کرو اپنا تو منشور ہے جالب سارے جہاں سے پیار کرو صدر ذی وقار روز و شب کا عروج وزوال ہر روز سوال بن کر کسی نہ کسی صورت میرے سامنے آجاتا ہے.اس وقت میں خود سے سوال کرتا ہوں ، کیا میں یہ دنیا بدل سکتا ہوں. صدرِ زی وقار یہ سوال پوچھنے کی دیر ہوتی ہے کہ میرے اندر سے ایک آواز آتی ہے ہاں تو دنیا بدل سکتا ہے. ہاں میں دنیا بدل سکتا ہوں جنابِ والی دنیا بدلنے سے پہلے ہمیں اپنے ملک کو بدلنا ہو گاملک کو بدلنے کے لئے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار پر کام کرنا ہوگا. ہمیں ہر اس نظام کو خیر باد کہنا ہو گا جو ہمارے ملک کی بنیاد کو کھوکھلا کر رہا ہے. میں بے روزگار لوگوں کو ہاتھ میں ڈگریاں لیے بے یارو مدد گار ٹھوکریں کھاتا دیکھتا ہوں تو میرا ضمیر مجھے جھنجھوڑتا ہے ، ملامت کرتا ہے .تب میرے دل سے صدا نکلتی ہے کہ مجھے اس دنیا کو اس